{"product_id":"professor-mangal-mori-ky-sath","title":"پروفیسر منگل موری کے ساتھ | Mangal Professor Mori K Sath | Mitch Album","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.facebook.com\/groups\/1876886402541884\/user\/100007803253151\/?__cft__%5b0%5d=AZU7tbytQ9v8ld74IjS46LrxdpfLiq0j59Q81tAVcCSCd8cuqQZCwoegjn18L45wBEAoBZUNnBk6S5qcesCq1TTSA93VOPzJJ0P6X2gk3qtnMxR_IBKC5e7xwxrN8v7l8voUwROi6CswK8xGkkOqK7Cbo5ze6iXCVHyAngqjZa0LQQf6DQ8Kr11RsnKA3Zzr9Iks-Fz9bXFYMXu3hlhQANaa\u0026amp;__tn__=%2CP-R\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: none; text-underline: none;\"\u003eAli Raza Kosar\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eTuesdays With Morrie\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتجزیہ: علی رضا کوثر\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکئی لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو کئی مطمئن ہوتے ہیں۔ موت سے ڈرنے والے ان گنت ہیں مگر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے ویلکم کرنے والے انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں۔ پروفیسر موری بھی ان میں سے ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپروفیسر موری کو ایک ایسی بیماری نے جکڑ لیا جو آدمی کو کسی موم بتی کی طرح پگھلا دیتی ہے۔ پیروں کی طرف سے سر کی جانب بڑھتی ہوئی یہ بیماری پہلے جسم کے اعضاء کو ناکارہ بناتی ہے پھر ہڈیوں کو پگھلاتی ہے اور آہستہ آہستہ جسمانی حرکت پر بندش ڈالتی ہے۔ حتہ کے اخیر میں آواز بھی بند ہوجاتی ہے۔ مگر پروفیسر موری ایسی بیماری سے ڈرنے والا کہاں؟ وہ تو موت کو بھی دوست سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے \"موت بھی اسی سودے بازی کا حصہ ہے جو ہم بہت پہلے کرکے آئے ہیں\"۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ وہ تو موت سے شناسائی کو زندگی جینے کا ہنر مانتا ہے۔ وہ کہتا ہے \"اگر تم یہ سیکھ لو کہ مرنا کیسے ہے، تم جینا خود ہی سیکھ جاؤگے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\" \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہ بات حیران کن ہے۔ زندگی کی اسٹیشن پر موت کی ریل گاڑی کا منتظر یہ بوڑھا پروفیسر کتنا مطئمن ہے۔ یہ سوچ کر بھی عجب احساس ہوتا ہے۔ ہم لوگ زندگی سے مطمئن نہیں ہوپاتے مگر موری موت سے بھی مطئمن ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eموری کا شاگرد، مچ البوم، جو اس کتاب کا مصنف ہے وہ ایک لاپرواہ اور مصروف شخص ہے جو اپنی زندگی میں اپنے اور اپنوں کیلئے کم جیتا ہے اور دھن دولت کیلئے زیادہ۔ وہ رشتوں کا خاص خیال نہیں رکھتا۔ اپنی منگیتر کو بھی وقت نہیں دیتا۔ اور نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ اسکی منگیتر اس سے جدا ہونے پر اسرار کرتی ہے۔ ایسے مچ البوم کو ایک مرتا ہوا پروفیسر بدل دیتا ہے۔ بے مقصد زندگی جینے والے کو بامقصد زندگی جینا سکھا دیتا ہے۔ آدمی کو انسان بنا دیتا ہے۔ پتھر کو دل میں بدل دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کتاب میں آپ زندگی اور موت کا مفہوم سمجھیں گے۔ ایک بوڑھا شخص جسے زندگی سے ہاتھ چھڑا کر موت کا ہاتھ تھامنا ہے، دیکھیں وہ یہ کس طرح کرتا ہے۔ وہ زندگی کو بھی جیتا ہے تو موت کو بھی۔ وہ زندگی سے بھی محبت کرتا ہے تو موت سے بھی۔ وہ اپنی بیماری سے کسی کو ڈسٹرب نہیں کرتا۔ زوجہ اور بچوں کو اپنے اپنے کام کرنے کا کہتا ہے۔ انکے معمول کو توڑنا مناسب نہیں سمجھتا۔ یہ بوڑھا پروفیسر مرنے کے بعد کے رونے دھونے اور اچھے الفاظ سے یاد کرنے کو ترجیع نہیں دیتا بلکہ زندگی میں ہی یہ سب کرنے کو بہتر مانتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنا فیونرل مناتا ہے۔ رشتیداروں اور دوستوں کو بلاتا ہے۔ مچ البوم بھی وہاں پہنچتا ہے۔ سب مل کر اس کا فیونرل مناتے ہیں۔ الودائی تقاریر کرتے ہیں۔ موری کے لئے آنسو بہاتے ہیں۔ ان کو اچھے الفاظ سے نوازتے ہیں۔ نظمیں پڑھتے ہیں۔ اور موری کی پیشانی کو بوسہ دیتے ہوئے رخصت لیتے ہیں۔ یوں موری اپنی آخری رسوم اپنے سامنے ادا کرواتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eموت کی آغوش میں لیٹا ہوا یہ شخص، کبھی بھی سو سکتا ہے۔وہ کسی وقت بھی مر سکتا ہے۔ اور یہ وہ بھی جانتا ہے۔ مگر وہ اپنے آخری ایام کھل کر جیتا ہے۔ہر منگل کو وہ اپنے شاگرد اور دوست مچ البوم سے ملتا ہے۔ دونوں مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ مچ یہ گفتگو رکارڈ کرتا ہے۔ جو کہ بعد میں اس کتاب کی صورت لیتی ہے۔ موری اپنے مطالعے کے کمرے میں کتابوں کی بیچ آخری دن گزارتا ہے۔ جہاں وہ لیٹا رہتا ہے وہاں پاس میں کھڑکی ہوتی ہے جہاں سے وہ اپنے پسند کے پھول دیکھتا ہے۔ جب تک ہاتھوں میں دم رہتا ہے اسکے ہاتھوں میں قلم رہتا ہے۔ مگر پھر قلم اٹھانا بھی ناممکن بن جاتا ہے۔ وہ بات کرتا ہے بحث کرتا ہے اور مچ کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے آواز بھی ساتھ چھوڑنے سلگتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپروفیسر موری اتنا مضبوط ہے کہ دن کو ہر کسی کے آگے اس کے چہرے پر موت کے خوف کی ایک جھلک تک نظر نہیں آتی۔ وہ ہر دم مسکراتا ہے۔ مگر یہ پہاڑ جیسا جگر رکھنے والا بندہ جب رات کو سوتا ہے اور آدھی رات کو آنکھ کھل جائے اور نیند نہ آئے تو موت کا سوچ کر روتا ہے۔ وہ ڈر سے نہیں روتا شاید اپنوں سے جدا ہونے کی وجہ سے روتا ہے۔ مگر دن میں کسی کو کوئی دکھ محسوس نہیں کرنے دیتا۔ وہ مچ البوم سے کہتا ہے کہ \"مجھے اس بیماری میں اب سے زیادہ خوفناک چیز جو لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ بیماری جلد میری حالت ایسی کردے گی کہ بات روم جانے کے بعد میری مخصوص جگہ کو کوئی اور صاف کرے گا\"۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپروفیسر موری کہتا ہے \"مچ۔۔۔! یہ بات نہیں کہ ہمیں فقط اوروں کو معاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ہمیں خود کو بھی معاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔\" خود کو معاف کرنا۔ یہ بات انوکھی ہے مگر ہمیں واقعی ایسا کرنا ہوتا ہے۔ ہم بہت بار وہ نہیں کرپاتے جو کرنا چاہتے ہیں۔ خود کو وقت نہیں دے پاتے۔ زندگی کو بھرپور نہیں جی باتے۔ ایسے میں خود کو بھی معاف کرنا ہوگا اور زندگی سے بھی معذرت کرنی ہوگی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eموری اپنی موت سے باخبر ہے۔ تبھی وہ اپنی زندگی اچھی جیتا ہے۔ وہ اپنے مرنے کے بعد قبر کی جگی بھی ایسی منتخب کرتا ہے کہ جہاں قبر کے نزدیک دریا بیتا ہو۔ وہ اپنی قبر میں بھی زندگی کو جینا چاہتا ہے۔ وہ قبر سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ موری اور مچ چونکہ ہر منگل کو ملتے ہیں اسلئے موری مرنے کے بعد بھی مچ کو اسکی اپنی قبر پر ہر منگل آنے کو کہتا ہے۔ وہ کہتا یے ہر منگل آنا ہم یونہی گفتگو کرینگے۔ مچ کہتا ہے \"مگر آپ تو جواب نہیں دے پائینگے\"۔ موری کہتا ہے \"پھر تم بات کروگے اور میں سنوں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\"\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eموری کے تدفین کے بعد مچ نے تصور میں موری سے بات کی تو اسے یوں محسوس ہوا کہ جیسے موری نے اسے جواب دیا ہو۔ مچ حیران ہوا اور گردن جھکا کر اپنی گھڑی کو دیکھا تو اسے سارہ معاملہ سمجھ میں آگیا۔ یہ دن منگل کا دن تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Takhleeqat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47274510418082,"sku":"9789695622537-5-22","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0710\/2680\/2850\/files\/aftr_9pm_5.jpg?v=1779176276","url":"https:\/\/takhleeqatbook.com\/products\/professor-mangal-mori-ky-sath","provider":"تخلیقات","version":"1.0","type":"link"}